Nazam - Woh Din Bhi Aa Hee Jaye Ga

April 28, 2007 on 8:30 pm | In Poetry |

وہ دن بھی آہی جائے گا

وہ دن بھی آ ہی جائے گا۔

کہ میرے دل کی مٹھی میں کوئی سچی خوشی ہوگی۔

کہ میرے کانپتے ہونٹوں پہ سچ مچ کی ہنسی ہوگی۔

نہ چہرے پر کوئی الجھن ،

نہ آنکھوں میں نمی ہو گی۔

وہ دن بھی آ ہی جائے گا۔

چھڑا کر ضبط کا دامن، چمکتے ہیں جو آنکھوں میں،

چھلکتے ہیں جوپلکوں سے ، وہ آنسو بیت جایئں گے۔

یقیں رکھو ، میرے ہمدم، وہ دن بھی آ ہی جائے گا،

دلوں کے حوصلے، اک دن، غموں سے جیت جایئں گے۔

وہ دن بھی آ ہی جائے گا۔

زمانے نے مجھے اب تک رکھاہے اجنبی جس سے،

سمے کے بہتے دھارے سے ، خوشی کے پل وہ لے لوں گا۔

زمانوں بعد جھولی میں، ستارے میں سجاؤں گا۔

بہت دن بعد اپنے سپنوں کی دنیا میں کھیلوں گا۔

وہ دن بھی آہی جائے گا کہ سپنوں کی حسیں دنیا،

میری نس نس، میری رگ رگ، میرے انگ انگ میں اترے گی۔

فقط  اک التجا یاروں، کہ اِس ہونی کو ہونے دو،

فقط اک بار مجھ کو موت کے دامن میں سونے دو۔

بھلا کر زندگی کے غم،

دیوانہ مسکرائے گا۔

وہ دن بھی آہی جائے گا۔

ایک لمحہ

1 Comment »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

  1. میں نے دیکھا ہے
    موت کا انتظار کرنے والوں کو
    اُن کی بے تمنا آنکھوں کو
    جیسے موت، خواب کی تعبیر ہو؟ یا راہِ نجات ہو؟
    مگر نہ جانے کیوں؟
    موت کی خواہش رکھتے ہوئے بھی،
    کسی سپنوں بھرے دن کی تمنا لیئے بھی۔
    شکست و ریخت سے ذرہ ذرہ بکھرتے ہوئے بھی

    میں نے ہر حال میں جینے کی قسم کھائ ہے!!!!
    کیوںکہ، یہ زندگی میری نہیں!!! میرے خالق کی ہے۔۔۔
    (فرخ)

    Comment by Farrukh — May 3, 2007 #

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^