Nazam - Tum
April 28, 2007 on 8:29 pm | In Poetry |تم
وہ لوگ کبھی دیکھے ہیں کیا؟ جو ساون رُت سے ہوتے ہیں جو بادل جیسے چھاتے ہیں جو برکھا جیسے آتے ہیں جو باغوں جیسے سجتے ہیں جو پھولوں جیسے کھِلتے ہیں جو ہنستے ہیں تو کلیو ں کا یہ حسن بھی گہنا جاتا ہے کہ جن کی میٹھی باتوں کو ہر دل میں رہنا آتا ہے ہاں اُن جیسی اک لڑکی میں نے اِس نگری میں دیکھی ہے چپ چپ سی گم صم سی ہے وہ لڑکی کچھ کچھ تم سی ہے وہ ہنستی ہے تو کلیوں کا حسن بھی گہنا جاتا ہے وہ پھولوں جیسی کھلتی ہے ہاں پھولوں جیسی تم بھی ہو جو تم سی میں نے دیکھی ہے وہ لڑکی بھی تو تم ہی ہو۔
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^