Ghazal - Woh Mairay Hum Nasheen Janay Kaya Kar Gai

April 28, 2007 on 8:29 pm | In Poetry |

غزل

وہ مرے ہم نشیں جانے کیا کر گئے

کل بھی جیتے نہ تھے ، آج پھر مر گئے

یوں تو اوپر سے ہم تھے بہت سخت جاں

بارِ غم کیا ملا، ٹوٹ کر گر گئے

ہم کو جس کے نہ ملنے کا غم تھا کبھی

وہ ملا، اُس کے کھونے سے ہم ڈر گئے

بات ایسے بنی ہے تو کیا ہے برا

تہمتیں ہم پہ ساری جو تم دھر گئے

وہ کہ بدلے نہیں اپنی خو میں ذرا

ہم کہ اپنے مخالف ہی اکثر گئے

تیری  چاہت میں پھرتے رہے دربدر

تجھ کو پایا ہے جب اپنے ہم گھر گئے

کیسے پگھلے گئے آتشِ عشق میں

ہم تو محفل میں تیری  تھے پتھر گئے

اے خدا تیری دنیا میں شعلہ نفس

حال ابتر رہے، حال ابتر گئے

بے بسی پر مری آنکھ بھر آئے کیوں؟

تھے بہت نامور مجھ سے بد تر گئے

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^