Nazam - Yehee Woh Akhri Hud Hai

April 28, 2007 on 9:10 pm | In Poetry |

یہی وہ آخری حد ہے

یہی وہ آخری حد ہے

جہاں سے ساتھ دینے کی ادائیں لوٹ آتی ہیں

جہاں سے زندگی کی سب دعائیں لوٹ آتی ہیں۔

جہاں پر حوصلے دیتی نصیحت کچھ نہیں ہوتی

جہاں الفاظ میں گندھی سی ندرت کچھ نہیں ہوتی۔

یہی وہ آخری حد ہے۔

کہ جس کے پار چلے جانے والے ایسے جاتے ہیں

کہ چاہے کتنے بھی آنسو بہا لیں ، گڑ گڑا لیں ہم۔

پلٹ کر وہ نہیں آتے۔

یہی وہ آخری حد ہے۔

جہاں پر دوست کا دستِ عنایت چھوڑنا ہی ہے۔

جہاں پر ہم رکابی کے ارادے بے معانی ہیں۔

جہاں سے زندگی کو اُلٹے قدموں دوڑنا ہی ہے۔

جہاں ہر سمت پر بس موت ہی کی حکمرانی ہے۔

یہی وہ آخری حد ہے۔

کہ جس کے پار جانے والے کو کتنے ہی پیارے ہوں۔

ہمیں اک بار پلٹ کر بھی صدا دے نہیں سکتا۔

فقط اک بار پلٹ کر بھی دعا دے نہیں سکتا۔

ہمارے کپکپاتے لب ،  ہماری بھیگتی پلکیں

ہمارے  دستِ لرزیدہ، ہماری اشکبار آنکھیں

چلو اِن کی زبانوں کو ملا کر اک دعا مانگیں!

’یہی وہ آخری حد کامسافر ہے  میرے اللہ!

تو اپنی خاص رحمت سے ، اسے جنت مکاں کرنا۔۔‘

سنو! اشکوں کے سائے سے نکلتی ہوئی دعاؤں کی

کوئی سرحد نہیں ہوتی۔

چلو سب اپنے اشکوں کو دعا میں ڈھال لیتے ہیں۔

1 Comment »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

  1. i could enjoy this poem if this would b written in urdu but it has so much circles instead of words

    Comment by naddiya — May 15, 2007 #

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^