Ghazal - Khoon e Dil Pee Kar Maira Jab Gham Jawan Ho

April 28, 2007 on 9:02 pm | In Poetry |

غزل

خونِ دل پی کر مرا جب غم جواں ہو جائے گا

گردشِ دوراں کے ہاتھوں بے نشاں ہو جائے گا

ہجر کی یہ داستاں بھی وقت میں کھو جائے گی

وقت  یہ بھی  ایک بھولی داستاں ہو جائے گا

ضبط کی ناکام کوشش میں مرا  بحرِ الم

مجھ کو کیا معلوم تھا کہ بے کراں ہو جائے گا

اُسکی یاری کے بھرم میں یہ کبھی سوچا نہ تھا

قتل گاہ پہ میرا قاتل رازداں ہو جائے گا

جس گھڑی ہم لوگ مرکے خاک میں مل جائیں گے

دیکھنا کہ اجنبی یہ آسماں ہو جائے گا

کیا خبر تھی کہ خلش پروان چڑھ جائے گی پھر

نیم مردہ درد میرا پھر جواں ہو جائے گا۔

رات کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر دل رو دیا

ظلمتوں کا بھی مقدر بے مکاں ہو جائے گا

دل کی مٹھی میں چھپا کر درد کو بیٹھا ہے کیوں؟

حال تیرا ، تیری نظروں سے عیاں ہو جائے گا

آپ کی محفل سے نکلے گا جو یہ شعلہ نفس

بے امان و دربدر بے خانماں ہو جائے گا

تیرا چہرہ ، میرا چہرہ، تیری سوچیں میرادل

ہجر کے شعلوں میں جل کے سب دھواں ہو جائے گا

یہ سزا ملنی تھی لمحہ ، رازداری کی تجھے

تیرے شعروں میں ترا ہر غم بیاں ہو جائے گا

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^