Nazam - Aye Hasrat e Dil
April 28, 2007 on 9:01 pm | In Poetry |اے حسرتِ دل
کہ جس کا ڈر تھا وہی ہوا ناں!
ہماری آنکھوں کے ساحلوں سے
ہمارے خوابوں کے کچھ سفینے۔
پھسل گئے ناں!
وہ آرزو جو نہیں تھی کرنی
وہی جگائی
دِل کی حسرت ،نہ جان پائی
یہ قافلے جو بہار کے ہیں
اُسی چمن میں رہا کریں گے
جہاں پہ کھلنے کو پھول ہوںگے
جہاں ہواؤں کی مست شوخی
خوشبوؤں میں بسا کے خود کو
کہا کرے گی۔
۔’بہار آئی، بہار آئی‘
یہ دل کی حسرت نہ جان پائی
کہ راکھ ہوتے ہوئے گھروںکے
کہ خاک ہوتے گلشنوںکے
نصیب میں بس یہی خزاں ہے۔
چرمراتے خشک پتوں کی سسکیاں ہیں۔
جان دیتی آرزو کی ہچکیاں ہیں
آخرش بس نوحہ سرائی۔
دِل کی حسرت ،نہ جان پائی۔
اداس دل کی خواہشیں بھی اداس ہونگی۔
ویران آنکھوں کے خواب بھی تو ، ویران ہونگے۔
اے حسرتِ دل۔
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^