Nazam - Bazar

April 28, 2007 on 8:59 pm | In Poetry |

بازار

ہر شے کا سودا ہوتا ہے

ہر چیز بکاؤ ہوتی ہے

گو چاہے من کا رشتہ ہو

یا من چا ہا کوئی ساتھی ہو

ہر فرد یہاں پر تاجر ہے

ہر وقت تجارت ہوتی ہے

تم حسن کے اپنے دام کہو

ہیں پیار کے سپنے؟ دام کہو

کیا لوگے اپنی یاری کے؟

کیا لوگے تم دلداری کے؟

غمخوار بنو گے کتنے میں؟

تم پیار کرو گے کتنے میں؟

سب جذبے میرے نام کرو

ہم نام کہیں تم دام کہو

پر دام چکانے کی خاطر

ہم اپنا دفتر کھولیں تو

ہم اپنی جیب ٹٹولیں تو

بس پیار ملے گا تھوڑا سا

اور پیار نبھانے کا بدلہ

آزار ملے گا تھوڑا سا

یہ سکے یاں کب چلتے ہیں

کیا ادھار ملے گا تھوڑا سا؟

یہ دنیا بے اعتباری کی

یہ عرض ہے ہر بیوپاری کی

کہ سودا ہاتھ کے ہات کرو

گر نقدی ہے تو بات کرو۔

چل آگے چل او بنجارے

یہ سودے ہم کو راس نہیں۔

کہ جس کی کوئی قیمت ہو

وہ دولت اپنے پاس نہیں

چل چھوڑ تمنا جذبوں کی

چل سودے دیکھ بھر پائیں ہم

ہم خالی ہاتھ ہی آئے تھے

چل خالی ہاتھ ہی جائیں ہم!

ایک لمحہ

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^