Nazam - Payari Dost Rabia Kay Liyeah

April 28, 2007 on 8:58 pm | In Poetry |

پیاری دوست ربیعہ کے لیے

میں کتنا تنہا تنہا ہوں

اک شخص گیا تو ،جان گیا!

جو خاموشی کی چادر میں

اور لاعلمی کے پہرے میں

ہم سب سے آخر روٹھ گیا

جو رشتہ اُس نے جوڑا تھا

وہ  موت کی ہلکی آہٹ سے

بس اک لمحے میں ٹوٹ گیا

بس اک لمحے میں آس گئی

بس اک لمحے میں رات ہوئی

پھر موت کا ایسا جھکڑ تھا ،

کہ زیست بھی اُس کے ساتھ ہوئی۔

پھر وقت بھی اس پہ مان گیا۔

کہ ہر دم  ہنستی ،ہستی کی

یوں جیون کی شمع گل ہو

یوں دنیا سے وہ رخصت ہو

کہ قدموں کی آہٹ اٹھے

نہ محفل میں شوروغل ہو۔

اور کہنے والا کہہ دے بس!

یوں اپنا دل جلاؤ کیوں؟

کہ اُس کی یاد مناؤکیوں؟

اب اُس کے ناز اٹھاؤ کیوں؟

وہ شخص تو تھا مہمان، گیا۔

میں کتنا تنہا ، تنہا ہوں۔

اک شخص گیا تو ،جان گیا۔

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^