Nazam - Mairay Chahnay Waloo

April 28, 2007 on 8:54 pm | In Poetry |

میرے چاہنے والو!

میرے چاہنے والو!

چشمِ نم کو روتے ہو؟

میری وحشتیں تم پرکیوں گراں گزرتی ہیں؟

میرے رنج وغم پر تم

کیوں اداس رہتے ہو؟

کیوں سوال کرتے ہو؟

میرے چاہنے والو!

کبھی ویران آنکھوں کا خواب بن کے دیکھا ہے؟

یاد میں ڈھلے ہو تم؟

کسی کے خشک ہونٹوں کی کانپتی دعاؤں میں

صد ہا برس رہ کر

خاک میں ملے ہو تم؟

سائبان کھویا ہے؟

دھوپ میں جلے ہو تم؟

زندگی کا حاصل جو پیار تم نے پایا تھا

نفرتوں میں بدلا ہے؟

دوستی کے پردے میں ملنے والے دشمن کے،

ہاتھ سے لٹے ہو تم؟

میرے چاہنے والو!

اُن ویران آنکھوں کا خواب تو بنو پہلے۔

یاد میں ڈھلو پہلے۔

مہربان آنکھوں کی

نفرتوں کو سہہ جاؤ،

خاک میں ملو پہلے۔

پھر تمہیں خبر ہوگی

میری وحشتیں کتنی

تلخ اک حقیقت ہیں۔

چشمِ تر کے آنسو بھی۔

گردشِ زمانہ کے درد کی امانت ہیں۔

درد تو سہو پہلے۔

پھر تمہیں خبر ہوگی۔

میرے چاہنے والو!

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^