Nazam - Khamooshi
April 28, 2007 on 8:52 pm | In Poetry |خاموشی
زبانیں گنگ بھی ہو جائیں
تو نظریں چپ نہیں رہتیں
کہ جذبوں کومعانی کے پہناوے
دینے والے سب کے سب
الفاظ کہیں کھو بھی جائیں تو
غمِ دل کی سسکتی آہ بپا طوفان رکھتی ہے
زبانیں گنگ بھی ہو جائیں
تو کانوں میں بھٹکتی سی
میری بے جان خواہش کی صنم وہ آخری ہچکی
بہت ہلکان رکھتی ہے
مجھے پہروں رلاتی ہیں تیری پُر سوز نگاہیں
تیرا خاموش سا ماتم۔
مرے جینے کی تمنا۔
مرے مرنے کا وہ عالم۔
کہاں الفاظ کی محتاج ہوتی ہیں کہو آہیں؟
کہ تم نے بھی سہا ہوگا کوئی چپ چاپ سا لمحہ
کوئی خاموش سا وہ پل کہ صدیوں پہ جو بھاری ہو۔
کبھی وہ تلخی ء دوراں کہ زہر سے بھی کاری ہو۔
مسافر سن!
سفر خاموش بھی رہ لے تو بولیں گی کٹھن راہیں
’زبانیں گنگ بھی ہو جائیں تو نظریں چپ نہیں رہتیں‘
اٹھا رکھتی ہے ہنگامے۔
میرے ہمدم، میرے ہمدم!
خاموشی چپ نہیں رہتی۔
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^