Nazam - Pathar Nahi Roo Sakta
April 28, 2007 on 8:40 pm | In Poetry |پتھر نہیں رو سکتا
تجھ سے جو ملا مجھ کو
وہ راس بھی ہوتا نا!
گر تھا جو مجھے لٹنا،
کچھ پاس بھی ہوتا نا!
پتھر میں سہی جاناں،
پر غم کا یہ عالم ہے،
آنکھوں کے سمندر میں،
طوفان مچلتا ہے۔
پلکوں کے کنارے پر،
سرِ شام ابھرتا ہے۔
پر ضبط کے دعوے کو،
ہر حال برتنا ہے۔
جو دل نے کیا تھا کل،
وہ دل کو بھگتنا ہے۔
یہ صبر کا بندھن ہے۔
ہلکا سا لرز جائے،
ایسا نہیں ہو سکتا،
پتھر نہیں رو سکتا۔
اک بات کہوں جاناں؟
تو بھی نہیں سو سکتا،
پتھر کے اگر غم کا،
احساس بھی ہوتا نا!
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^