Nazam - Mairay Maseeha
April 28, 2007 on 8:39 pm | In Poetry |مرے مسیحا
مرے مسیحا سے جا کے کہہ دو
کہ دم بلب ہے قرارِ ہستی
کہ جاںگسل انتظار تیرا
کہو کہ مہمان رہ گیا ہے
بس ایک پل کا بیمار تیرا ، مرے مسیحا
ترے سفر میں ہوئیں جو روشن
وہ صبحیں راتوں میں ڈھل گئیں ہیں
کہ تیرے خوابوں کی حدتوں سے
کسی کی آنکھیں ہی جل گئی ہیں،
مرے مسیحا سے جا کے کہہ دو
کہ درد اتنا سوا ہوا ہے،
یہ نبض جیسے تھمی ہوئی ہے،
یہ وقت جیسے رکا ہوا ہے، مرے مسیحا۔
سہارے جس کے کٹی ہے ہر شب
وہ آس سینے میں گھٹ رہی ہے۔
مرے مسیحا ! خبر بھی لو اب!
متاعِ جاں ہے کہ لٹ رہی ہے!
مرے مسیحا!
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^