Nazam - Kuch Khawb He Tu Thai

April 28, 2007 on 8:34 pm | In Poetry |

کچھ خواب ہی تو تھے

سنو !

اب دل کو سنبھالو

ذرا سوچو ذرا سمجھو

بتا دی جن کے ماتم میں

یہ ساری زندگی تم نے

فقط کچھ خواب ہی تو تھے

چلو آنکھوں میں در آئے

کہ گھر اس دل کو کر بیٹھے

یہ مانا تم نے اپنے دل کے خوں سے اُن کو سینچا تھا

بجا کہ اپنی سانسوں کی امانت اُن کو دیدی تھی

جو پورے دل کی تھی دولت وہ چاہت اُن کو دیدی تھی

مگر سوچو!

سفر جیون کا رکتا ہے اگر کچھ ہاتھ چھوٹیں تو؟

نئی اُمید بنتی ہے ۔

کہ جینے کی تمنا مر نہیں جاتی اگر کچھ خواب ٹوٹیں تو۔

سنو اب دل کوسنبھالو!

کہ جب زندہ تمہارے دل میں تھے بے تاب ہی تو تھے۔

ذرا سوچو ذرا سمجھو!

بتا دی جن کے ماتم میں یہ ساری زندگی تم نے

کتابِ زندگی کے کچھ ادھورے باب ہی تو تھے۔

چلو آنکھوں میں در آئے۔

مگر کچھ خواب ہی تو تھے۔

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^