Ghazal - Dil Howa Tar Tar Apna Bhi
April 28, 2007 on 8:31 pm | In Poetry |غزل
دل ہوا تار تار اپنا بھی
ہے کوئی غم گسار اپنا بھی؟
بے وفاؤں کے ذکر میں جاناں
نام لے ایک بار اپنا بھی
اے مسیحا خیال کر اپنا
حالِ دل کچھ سدھار اپنا بھی
تیری محرومیوں کا دکھ سن کر
ہو گیا دل فگار اپنا بھی
واہ ری قسمت تری نظر میں ہوا
دشمنوں میں شمار اپنا بھی
مری ہستی سے کھیلنے والے!
ہے تجھے اختیار اپنا بھی؟
عشق صحرا نشیں ہوا اپنا
اب جنوں ہے شعار اپنا بھی
تنہا موسم میں ہجر کے مارے!
کرتے ہیں انتظار اپنا بھی
زندگی اُس پہ وار دی تو نے
لمحہ لمحہ گزار اپنا بھی
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^