Ghazal - Anjam Fasanay Ka Yeh chaha Tu nahi Tha

April 28, 2007 on 9:08 pm | In Poetry | No Comments

غزل

انجام فسانے کا یہ چاہا تو نہیں تھا

ہم تم سے بچھڑ جائیں گے سوچا تو نہیں تھا

یہ بات الگ ہے کہ سزا جھیل رہا ہوں

اے دوست تجھے بھول کے جینا تو نہیں تھا

تو اشک بہاتا ہے یہاں موسمِ گل میں

کوئی خواب تیرا بھی کہیں ٹوٹا تو نہیں تھا؟

پھر آج دعاؤں میں اثر آنہ سکا کیوں؟

پھر آج کسی نے تجھے مانگا تو نہیں تھا؟

وہ آج یوں تڑپا ہے کہ قابو میں نہ آیا

دل تھا تو ستمگر مرا اتنا تو نہیں تھا

پھر موجِ صبا لائی ہے مانوس سی خوشبو

تو نے کہیں چھو کراُسے بھیجا تو نہیں تھا؟

جو سن کے ہنسے ہو مری رسوائی کا قصہ

لفظ آپ ادا ہو گئے ، کہنا تو نہیں تھا

صدیوں سے رگ و پے کا جو آزار بنا ہے

ایسے کبھی ہجرِ رواں ٹھیرا تو نہیں تھا

کرتانہ جنوں خیز اُسے خونِ جگر سے

ایسا بھی میرا یاد سے جھگڑا تو نہیں تھا

دل آج مجھے پھر سے اکیلا سا لگا تھا

تو بھی اُسی ساعت کہیں تنہا تو نہیں تھا؟

یادوں کے سفینوں نے کیا رُخ کیوںذہن کا؟

جاتے کسی لمحے کو پکارا تو نہیں تھا؟

Ghazal - Anjaam e Mohabbat Tujhay Ruswa Na Karain Gai

April 28, 2007 on 9:07 pm | In Poetry | No Comments

غزل

انجامِ محبت تجھے رسوا نہ کریں گے

ہم اب کبھی جینے کی تمنا نہ کریں گے

ہوجائیں گے درگور خطا کار جو ٹھیرے

ہم آپ کی دنیا میں تماشا نہ کریں گے

کس موڑپہ مل جائیں کسی یاد کے آنسو

ہم خواب کے دامن سے یوں نکلا نہ کریں گے

ہم دل کو بنا لیں گے گزر گاہ کہ جس میں

جگنو کسی کی یاد کے اترا نہ کریں گے

یہ آپ کے دیوانے کا اعجاز رہے گا

غم آپکی گلیوں سے بھی گزرا نہ کریں گے

ہاں دل کو تمنا ہے اُسی روز کی جس میں

سپنے کسی کے ٹوٹ کر بکھرا نہ کریں گے

گر آپ حسیں جلو وں کو پابند کریں کچھ

ہم آپ کی قربت میں یوں بہکا نہ کریں گے

ہم وقت کے دریامیں صنم تم کو بہا دیں؟

گر یاد ستمگر بھی ہو ایسا نہ کریں گے

کچھ وقت لگے گا کہ زخم بھرنے لگیں گے

ہاں یاد کریں گے تمہیں ،اتنا نہ کریں گے

« Previous PageNext Page »

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^